تبليغاتX
مهدی فورم

بعض لوگ حضرت کي شخصيت سے هر قسم کی جنگ و جهاد کے نقوش مٹا ديتے هيں يه که اس دور ميں معجزازنه انداز سے سب کام هوجائيں گے اور حضرت اس قدر مهربان هيں که کسي ظالم کو اس کے عمل کي سزا بھي نه ديں گے ،ايسا منحرف خيال خود اهلبيت(علیہم السلام) کے زمانه کے لوگوں ميں بھي موجود تھا:معمر بن خالد روایت کرتے ہیں که امام رضا علیہ السلام سے حضرت قائم(علیہ السلام) کے حوالے سے گفتگو هوئ تو آپ نے فرمايا:

... لو قد خرج قاﺋمنا لم يکن الا العلق و العرق والنوم علي السروجگويا تم اس زمانه والوں سے سهل پسند هو جب قائم قيام کريں گے تو (سواريوں )زينوں پر (مسلسل کوشش اور جنگ کي تھکاوٹ سے) خون ٬پيسه بهانے اور نيند کو ترک کے علاوه کوئی کام نه هوگا-(غيبت نعماني باب ۱۵ ص۲۸۵)

اس منحرف نظريه کے نتائج :(۱)ظهور کے اسباب فراهم کرنے کےليے ٬تياري اور کوشش نه کرنا۔(۲)جھوٹي اميد که جس کي بنا پر بهت سے لوگ شرعي ذمه دارياں ادا کرنے ميں سست هوجاتے هيں-

ايسے منحرف نظريات کے اسباب:۱)تمام امور کو معجزه سے حل کرنے کي سوچ۔۲)حضرت ؑکي بے پناه حکيمانه محبت و مهرباني کے بارے گہری فهم و فکر نه رکھنا۔۳) دين(آيات اور سيرت اهلبيت(علیہم السلام)) پر جامع نگاه کا نه هوگا-

علاج:دين ميں علم وبصيرت رکھنا ٬آيات و روايات اور سيره اهلبيت(علیہم السلام) کا تجزيه کرنا اور بالخصوص حکمت اور محبت ميں رابطه کا تجزيہ کرنا که حکيم کي محبت ومهرباني اس کي حکمت سے پيدا هوتي هے اور حکمت کا تقاصا نهيں هے که ايسے ظالم لوگ جنهوں نےظلم وجنايات کے علاوه کوئی کام نهيں کيا ٬نه ان پر وعظ و نصيحت کا اثر هوتا هے اور نه وه صراط مستقيم پر چلتے هيں ان پر رحم کيا جاۓ۔ ۔ ۔

+ تحریر شده  24 Dec 2011میں ٹایم 12 PM  قلم نگار سیفی  | 

غیبت کبریٰ کے زمانہ میں خصوصاً آج کل بعض لوگ امام زمانہ  عليہ السلام  کی ملاقات کا دعویٰ کرکے اپنی دُکان چمکا کرشہرت اور دولت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح بہت سے لوگوں کو گمراہی اور عقیدہ و عمل میں انحراف کی طرف لے جاتے ہیں، بعض دعاؤں کے پڑھنے اور بعض ایسے اعمال انجام دینے کی دعوت دیتے ہیں کہ ان میں سے بہت سے اذکار اور اعمال کی کوئی اصل اور بنیاد بھی نہیں ہے۔ امام زمانہ عليہ السلام  کے دیدار کا وعدہ  دے کر ایسی محفلوں میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں جن کے طور طریقے دین یا امام زمان عليہ السلام     کے لئے قابل قبول نہیں اوریوں وہ لوگ امام غائب کی ملاقات کو سب کے لئے ایک آسان کام قرار دیتے ہیں، جبکہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام  عليہ السلام خداوندعالم کے ارادہ کے مطابق مکمل طور پر غیبت میں ہیں اور صرف ایسے گنتی کے چند افراد ہی کی امام  عليہ السلام سے ملاقات ہوتی ہے جن کی نجات فقط لطف الٰہی کے اس مظہر یعنی اما م عصر کی براہ راست عنایت پرمنحصر ہوتی ہے۔

 نکتہ یہ ہے کہ امام عليہ السلام  کی ملاقات صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب امام زمانہ  عليہ السلام  کی نظر میں کوئی مصلحت اس ملاقات میں ہو، لہٰذا اگرکسی عاشق امام  عليہ السلام کو اس کے تمام تر اشتیاق ورغبت اور بھرپور کوشش کے باوجودبھی امام سے ملاقات کا شرف حاصل نہ ہوسکے تو اس کوما یوسی اور ناامیدی کا شکار نہیں ہونا چاہئے اورملاقات نہ ہونے کو امام  عليہ السلام کے لطف و کرم کے نہ ہونے کی علامت قرار نہیں دینا چاہئے، جیسا کہ جو افراد امام  عليہ السلام  کی ملاقات  سے فیض یاب ہوئے ہیں ان کی ملاقات کو ان کے تقویٰ اور فضیلت کی علامت قرارنہیں دیا جا سکتا ہے۔

 

حاصل کلام یہ کہ اگرچہ امام زمانہ  عليہ السلام کے جمالِ پْر نور کی زیارت اور دلوں کے اس محبوب سے گفتگو اور کلام کرنا واقعاً ایک بڑی سعادت ہے لیکن آئمہ  علیہم السلام خصوصاً امام عصر عليہ السلام  اپنے شیعوں سے یہ نہیں چاہتے کہ ان سے ملاقات کی کوشش میں رہیں اور اپنے اس مقصود تک پہنچنے کے لئے  چِلّہ  کاٹیں، یا جنگلوں میں مارے مارے پھریں؛ بلکہ آئمہ معصومین علیہم السلام نے بہت زیادہ تاکید کی ہے کہ ہمارے شیعوں کو ہمیشہ اپنے امام کو یاد رکھنا چاہئے اور ان کے ظہور کے لئے دعا کرنا چاہئے اور آپ کی رضایت حاصل کرنے کے لئے اپنی رفتار و کردار کی اصلاح کی کو شش کرنا چاہئے اورآپ کے عظیم مقاصد کے حصول کے راستے پر قدم بڑھانا چاہئے تاکہ جلد از جلدبشریت کی اس آخری امید کے ظہور کا راستہ ہموار ہوجائے اور کائنات ان کے وجود سے براہ راست فیضیاب ہو۔

 

خود امام مہدی  عليہ السلام فرماتے ہیں:

 

''اَکثِرُْوا الدعَاء َ بِتَعجِیلِ الفرجِ، فانَّ ذَلکَ فَرَجُکُم''۔ ( کمال الدین،ج٢،باب٤٥،ح٤،ص٢٣٩.)    

 

      میرے ظہور کیلیے بہت زیادہ دعا کیا کرو یقیناً اس میں تمہارے لیے آسانی ہے

+ تحریر شده  11 Oct 2011میں ٹایم 12 PM  قلم نگار سیفی  | 

دین خدا کی سب سے بڑی تجلی توحید ہے کہ جو تاریخ بشریت کے تمام آسمانی ادیان کا سرنامہ رہی ہمیشہ یہ تجلی لسان نبوت سے بیان ہوئی اور ولایت و امامت سے خالص وپاکیزہ رہی ،آج وحدانیت پروردگار کا مظہر اسلام ہے کہ جو اعلان غدیر کے بعد ولایت علی علیہ السلام کی صورت میں جلوہ گر ہوا اور امام علی  سے لے کر امام حسن عسکری علیہ السلام تک مظلومیت و عظمت کے سفر میں بے پناہ قربانیاں دیتا ہوا قائم آل محمد کی پاکیزہ صورت میں نورافشانی کررہا ہے، امام مہدی علیہ السلام اسلام کی تجلّی اور اعلان غدیر کا مظہر ہیں روز غدیر ایک لاکھ کے قریب مسلمانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ کے فرمان پر علی ولی اللہ کی بیعت کی اور ان سے تمسک و توسل کا عہد کیا۔

دور حاضر میں سب مہدی (عج)کے عاشقوں اور بشریت کے نجات دھندہ کے منتظرین پر ضروری ہے کہ جہاں بھی ہوںہر روز اپنے ولی اللہ مہدی زمان اور قائم آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ سے بیعت و عہد کریں۔

کیونکہ ہرروزروز ِغدیر ہے اور ہر روز روز ِبیعت اور امام سے تجدید عہد کا دن ہے

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ اللہ تعالی کا ہم سے عہد ہے... آپ اپنے ایک صحابی کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :یہ وہی اللہ تعالی کے حضور امیر المومنین اور ان کے بعد آئمہ کی ولایت قبول کرنے کا عہد ہے (تفسیر نور الثقلین ج٣ ص٣٦٢)

+ تحریر شده  22 Sep 2011میں ٹایم 10 AM  قلم نگار سیفی  | 
امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شہادت پر جبرائیل کی فریادمولا امیرالمؤمنین (ع)

مروی ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام اس رات جاگتے رہے اور متعدد بار کمرے سے باہر نکلتے اور فرمایا کرتے تھے کہ:
خدا کی قسم میں جھوٹ نہیں کہتا اور مجھ سے جھوٹ نہیں بولا گیا یہی ہے وہ رات جس میں شہادت کا وعدہ دیا گیا ہے۔ (1) 
بہر صورت امیرالمؤمنین علیہ السلام نماز فجر کے لئے کوفہ کی مسجد اعظم میں داخل ہوئے اور سوئے ہوئے افراد کو نماز کے لئے جگایا؛ ان ہی میں سے اس امت کا شقی ترین فرد "عبدالرحمن بن ملجم مرادی" بھی تھا جو الٹا سویا ہوا تھا جس کو امیرالمؤمنین علیہ السلام نے نماز کے لئے جگایا۔ 
آپ (ع) نماز میں مصروف ہوئے اور جب پہلی رکعت کے پہلے سجدے سے سر اٹھایا تو ابن ملجم کے دوسرے دہشت گرد ساتھی "شبیب بن بجرہ اشجعی" نے تلوار سے آپ (ع) کے سر کو نشانہ بنانا چاہا مگر اس کا وار محراب کے طاق پر جالگا اور ابن ملجم ملعون نے چلّا کر دوسرا وار کیا جو آپ کی پیشانی کو لگا جس سے آپ (ع) شدید زخمی ہوئے۔ 
تلوار امیرالمؤمنین علیہ السلام کی پیشای کے عین اسی مقام پر لگی جسے جنگ احزاب (غزوہ خندق) مین عمرو بن عبدود نے زخمی کردیا تھا۔ 
حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السّلام نے فرمایا:
"بسم الله و بالله و علی ملْة رسول الله فزت و ربّ الکعبه" (2)
خدا کے نام سے اور خدا کے سہارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ملت پر؛ ربّ کعبہ کی قسم! مین کامیاب ہوگیا۔ 
لوگ چلائے کہ ضارب کو پکڑو۔ صدائیں بلند ہوئیں، کچھ لوگ محراب کی طرف دوڑے؛ اور کچھ عبدالرحمن اور شبیب کو پکڑنے کے لئے مسجد سے باہر نکلے؛ امیرالمؤمنین علیہ السلام محراب مسجد میں زمین پر گر پڑے تھے اور محراب کی مٹی اٹھا اٹھا کر اپنی پیشانی پر ڈالتے اور اس آیت کی تلاوت فرمارہے تھے: 
«منها خلقناکم و فیها نعیدکم و منها نخرجکم تارة اخری»;(3)
ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور تمہیں مٹی کی طرف لوٹائیں گے اور ایک بار پھر تمہیں مٹی سے باہر لائیں گے۔ 
اور اس کے بعد فرمایا: 
"جأ امرالله و صدق رسول الله، هذا ما وعدنا الله و رسوله"۔
خدا کا فرمان آن پہنچا، اور سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہی وہ وعدہ تھا تو خدا اور اس کے رسول (ص) نے ہمیں دیا تھا۔ 
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے زخم کھایا تو زمین لرز اٹھی، سمندر طوفانی ہوگئے اور آسمان متزلزل ہوئے اور مسجد کے دروازے شدت ٹکرائے اور کالی آندھیاں چلیں جنہوں نے دنیا کو تیرہ و تار کردیا اور جبرائیل علیہ السلام کی فریاد آسمانوں اور زمین پر چھا گئی اور ہر شخص نے جبرائیل کو کہتے ہوئے سنا کہ: 
تهدمت و الله اركان الهدی، و انطمست أعلام التّقی، و انفصمت العروة الوثقی، قُتل ابن عمّ المصطفی، قُتل الوصی المجتبی، قُتل علی المرتضی، قَتَله أشقی الْأشقیاء؛(4) 
خدا کی قسم ہدایت کا رکن (ستون) ٹوٹ گیا، علم نبوت کے ستارے بجھ کر تاریک ہوگئے، اور پرہیزگاری کی علامتوں کو کو مٹا دیا گيا اور عروة الوثقی کو منقطع کیا گیا؛ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ابن عم کو قتل کیا گیا؛ برگزیدہ ترین وصی (سید الاوصیاء) قتل کئے گئے، علی مرتضی قتل کئے گئے اور آپ (ص) کو شقیوں میں سے زیادہ شقی (اور بدبخت ترین بدبخت یعنی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی) نے قتل کردیا۔ 
.................
مآخذ:
1- منتہی الآمال، ج1، ص 172۔
2- بحارالانوار، ج 42، ص 281؛ منتہی الامال، ج 1، ص 126 – 127۔
3- سورہ طہ، آیہ 55۔
4- منتہی الآمال، ج1، ص 174۔

+ تحریر شده  23 Aug 2011میں ٹایم 3 PM  قلم نگار سیفی  | 

ہے۔امامت ايک الہي آفتاب ہے کہ جو ديني و روحاني اور تمام پہلوؤں ميں زندگي بخشتاہے ۔ تاريخ کے اوراق گواہ ہيں کہ شيعوں نے ہميشہ اسي عقيدہ سے تمسک کيا اور اس کائنات ميں اپنے سفر کا آغاز کيا۔ بلاشبہ اسلام ميں مکتب تشيع کا سرچشمہ  ٬ اس کي حيات٬ اس کا کمال و ارتقاء اور اس کي بقاء اس عظيم قرآني حقيقت اورپيغمبراکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  کي يادگار سنت سے وابستہ ہے۔

تمام آئمہ اہلبيت عليھم السلام ميں بارہويں امام خصوصي صفات اور فضائل کے مالک ہيں فقط وہ ذات ہے کہ جو پوري دنيا کو ظلم و ستم سے تاريک ہونے کے بعد عدل و انصاف کے نور سے روشن کرد ےگي۔

امام مہدي عليہ السلام سلسلہ امامت کي آخري کڑي ٬ آخري الہي ذخيرہ٬ تمام رسالتوں کا ثمرہ٬ تمام کمالات و فضائل کا سرچشمہ٬ ہرخير و نيکي کا مرکز اور تمام اچھائيوں اورخوبصورتيوں کي تجلي گاہ ہے۔مہدويت دنيا کے مستقبل پر ايک حسين افق٬ انسانوں کے مستقبل اور آنے والے انسانوں کے لئے پر مسرت نويد٬ تمام اديان و مکاتب کا مشترکہ عقيدہ اور اس کرہ خاکي کے تمام مظلوموں  کے دل کي آواز ہے۔

يہ وہي عظيم عقيدہ ہے کہ جو ہر مسلمان کو جاہليت کي موت سے نجات ديتاہے جيساکہ سرور کائنات نے فرمايا:"مَنْ مَاتَ وَ لَمْ يَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِہِ مَاتَ مِيْتَۃً جَاھَلِيْۃ"( کمال الدين وتمام النعمہ (شيخ صدوق) ج٢٬ ص٤٠٩٬ صحيح بخاري٬ ج٥ ٬ ص ١٣ ٬ صحيح مسلم ج٦ ٬ ص٢١ ٬ ٢٢.)

ترجمہ:جو شخص اس حال ميں مرا کہ اپنے زمانے کے امام کي معرفت (شناخت) نہ رکھتاہو۔ وہ جہالت کي موت مرا۔

امام زمانہ عج کي معرفت کے حصول٬ اس کي تعليمات کی نشرو اشاعت اور ان کي اطاعت و پيروي ميں قدم بڑھانا در اصل اس عظيم عہد سے وفا بھي ہے کہ جو آئمہ نے ہم شيعوں سے ليا تھا کہ جس کا تذکرہ احاديث محمد و آل محمد ميں کثرت سے ہوا۔

خود امام عصر عج اللہ فرجہ الشريف فرماتے ہيں:

اگر ہمارے شيعہ اللہ تعالي انہيں راہ اطاعت ميں توفيقات سے نوازے ٬ اپنے عہد سے وفا کريں اور ہمدل و با عزم ہوں تو ان سے ہمارے ديدار کي نعمت دور نہیں رہے گي اور جلد ہم سے سچي اور مکمل معرفت رکھتے ہوئے ملاقات کي سعادت حاصل کريں گے۔(احتجاج٬ ج٢ ٬ ص٦٠٠)

ہميں فخر ہے کہ اللہ تعالي نے محمد و آل محمد کو ہمارے امام قرار ديتے ہوئے ہميں ان کے عہد ولايت سے منسلک کرديا اور اور ان کي اطاعت و پيروي ميں اس دين حق کے لئے ہماري ہر عبارت اور قرباني کو قبول کرنے کا وعدہ کيا۔ آج ہم بوستان ولايتِ کے آخري تاجدار عالمي مصلح اور فرزند رسول امام مہدي عليہ السلام کي ولايت عظمي سے تمسک ٬ ان کي مسيحا ذات سے توسل اور دين الہي اور عالمي عدل  کے نفاذ ميں ان کي مکمل پيروي و اطاعت کا عہد کرتے ہيں۔

+ تحریر شده  19 Jul 2011میں ٹایم 11 AM  قلم نگار سیفی  | 
خیبر چند قلعوں کے مجموعے کا نام تھا، جہاں کے لوگوں کا مشغلہ کھیتی باڑی کرنا اور مویشی پالناتھا، وہ علاقہ چونکہ بہت ہی زرخیز تھا لہٰذا اس کو حجاز کے غلّے(١) کا گودام کہا جاتا تھا۔ خیبریوں کی اقتصادی حالت بہت اچھی تھی جس کا پتہ اس غذا اور اسلحوں کے اس ذخیرے سے لگایا جاسکتا ہے جو مسلمانوں کے ہاتھوں ان قلعوں کی فتح کے بعد سامنے آیا تھا۔ یہ قلعے نظامی اعتبار سے مستحکم اور مضبوط بنے ہوئے تھے جن کے اندر موجود فوجیوں کی تعداد دس ہزار تھی (٢) اسی وجہ سے یہودی اپنے کو سب سے طاقتور سمجھتے تھے اور یہ تصور کرتے تھے کہ مسلمانوں کے اندر ان سے جنگ کرنے کی ہمت اور طاقت نہیں ہے۔ (٣)24 رجب یوم فتح خیبر --- پیغمبر(ص) نے فرمایا: علی (ع) کہاں ہیں؟
٦ھ میں سلام بن ابی الحقیق جو بنی نضیر کا ایک سردار تھا اور خیبر کے یہودیوں کی لیڈر شب اس کے ہاتھ میں آگئی تھی اس نے قبیلۂ غطفان اوردوسرے مشرک قبیلوں کو جمع کر کے مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کی خاطر بڑی فوج تیار کرلی اس کی ان فتنہ انگیزیوں کی وجہ سے مسلمانوں کے ہاتھوں اس کے قتل ہو جانے کے بعد خیبریوں نے اس کی جگہ اسیر ابن زارم (4) کو اپنا سردار چن لیا اس نے بھی اسلام دشمنی کی وجہ سے ان قبائل کو اسلام کے خلاف اکسایا۔ (5)
پیغمبر اکرمۖ نے گزشتہ دشمنیوں اور جھگڑوں کو مصالحت کے ساتھ حل کرنے کے لئے عبد اللہ بن رواحہ کی سرپرستی میں ایک وفد اس کے پاس بھیجا تاکہ اس کو راضی کرسکے وہ جب عبد اللہ بن رواحہ اور اپنے کچھ یہودی ساتھیوں کے ساتھ ایک وفد کی صورت میں مدینہ کی طرف آرہا تھا تو راستے میں اپنے اس فیصلے سے نادم ہوا اور اس نے سوچا کہ عبد اللہ کو قتل کردے، چنانچہ طرفین کی اس چھڑپ میں وہ اور اس کے ساتھی مارے گئے(6) اور اس طرح پیغمبر کی یہ مصالحت آمیز کوشش کارگر نہ ہوسکی۔
ان تمام سازشوں اور فتنوں کے علاوہ موجودہ دور کے ایک مورخ کے بقول اس وقت یہ خطرہ بھی پایا جاتا تھا کہ خیبر کے یہودی، مسلمانوںسے پرانی دشمنی کی بناپر اور بنی قینقاع، بنی نضیر اور بنی قریظہ کی شکست کا بدلہ لینے کے لئے ایران یا روم کے آلۂ کار بن سکتے ہیں اور ان کے اشارے پر مسلمانوں پر حملہکر سکتے ہیں۔(7)
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب صلح حدیبیہ کے بعد جنوبی علاقے کے خطرات کی طرف سے مطمئن ہوگئے تو آپ نے  ٧ھ کے آغاز میں ١٤٠٠، افراد پر مشتمل، لشکر کے ساتھ(8)، یہودیوں کی گوش مالی کے لئے شمال کی طرف روانہ ہوئے اور اسلامی فوج کے لئے ایسے راستے کا انتخاب کیا جس سے غطفان جیسے طاقتور قبیلے کا رابطہ جس کا اس وقت خیبریوں سے معاہدہ تھا خیبریوں سے ٹوٹ گیا ، جس کے بعد ان کے درمیان ایک دوسرے کی امداد اور تعاون کا کوئی امکان باقی نہیں رہ گیا۔(9) یہودیوں پر اچانک اور ان کی بے توجہی سے فائدہ اٹھا کر حملہ کرنے کی حکمت عملی کے نتیجہ میں راتوں رات قلعۂ خیبر اسلامی فوج کے محاصرے میں آگیا اور جب صبح ہوئی تو یہودیوں کے سردار اس خطرہ کی طرف متوجہ ہوئے۔
البتہ پھر بھی مسلمانوں اور خیبریوں کی یہ جنگ برابر کی لڑائی نہیں تھی کیونکہ وہ لوگ بہت ہی مضبوط و مستحکم اور مورچہ بند قلعوں کے اندر تھے اور انھوں نے قلعوں کے دروازے بند کر رکھے تھے اور میناروں کے اوپر سے تیر اندازی کر کے یا پتھر برسا کر اسلامی فوج کو قلعہ کی دیوار سے نزدیک نہیں ہونے دے رہے تھے چنانچہ ایک حملے میں اسلامی فوج کے پچاس سپاہی زخمی ہوگئے۔(10)
دوسری طرف سے ان کے پاس کافی مقدار میں خوراک کا ذخیرہ موجود تھا مگر اس محاصرہ کے طولانی ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے پاس خوراک کا ذخیرہ کم ہوگیاانجام کار نہایت دشواریوں اور زحمتوں کے بعد خیبر کے قلعے یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے قبضہ میں آنے لگے لیکن آخری قلعہ جس کا نام قموص تھا اوراس کا سپہ سالار مرحب تھا جو یہودیوں کا مشہور پہلوان بھی تھا یہ قلعہ آخر تک کسی طرح فتح نہ ہوسکا اور اسلامی فوج کے سپاہی اس پر قبضے نہ کرسکے۔ ایک روز پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسلامی فوج کا پرچم ابوبکر اور دوسرے روزعمر کے حوالے کیا اور فوج کو ان کے ساتھ یہ قلعہ فتح کرنے کے لئے روانہ کیا لیکن دونوں افراد کسی کامیابی اور فتح کے بغیر رسول خدا (ص) کے پاس پلٹ کر واپس آگئے(11)۔ آپ نے یہ صورت حال دیکھ کر ارشاد فرمایا:
''کل میں یہ پرچم اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوںخداوند عالم اس قلعہ کو فتح کرائے گا وہ ایسا شخص ہے جو خدا اور رسول کو دوست رکھتا ہے اور خدا اور اس کا رسول بھی اسے دوست رکھتے ہیں وہ کرار غیر فرار ہوگا'' اس رات پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تمام صحابہ کی یہی آرزو تھی کہ کل پیغمبر، اسلامی فوج کا پرچم اس کے حوالے کردیں جب سورج طلوع ہوا، پیغمبر نے فرمایا: علی (علیہ السلام) کہاں ہیں؟ سب نے عرض کی کہ علی (علیہ السلام) کو آشوب چشم ہے اور وہ آرام کر رہے ہیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی (علیہ السلام) کو طلب کیا اور آپ کی آنکھوں کو حضرت علی (علیہ السلام) ـ  پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم کے مطابق روانہ ہوئے اور ایک دلیرانہ جنگ میں مرحب کو قتل کیا اور بے نظیر و لاجواب شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مستحکم او رمضبوط قلعے کو فتح کرلیا۔ جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس فتنہ اور فساد اور سازشوں کے اڈے یعنی خیبر کی فتح میں چند اسباب اور عوامل کارفرما تھے جن میں سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بہترین سپہ سالاری اور جنگی حکمت عملی (جیسے دشمن کی غفلت سے فائدہ اٹھانا دشمن سے متعلق خبریں اور ان کے قلعوں کی اندرونی معلومات حاصل کرنا) اور بالآخر حضرت علی (علیہ السلام) ـ کی بے نظیر شجاعت کا بھی اس میں کافی اہم کردار تھا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی (علیہ السلام) کی اس بہادری اور فداکاری کو اس انداز سے سراہا کہ اس دور کے ہر مسلمان بچے بچے کی زبان پر آپ کی بہادری کا کلمہ تھا اور اس کے مدتوں بعد تک آئندہ نسلوں کو بھی یہ واقعہ معلوم تھا اور اس دور کی تاریخ میں اسے اتنا عیاں اور روشن سمجھا جاتا تھا کہ معاویہ نے اپنی حکومت میں حضرت علی (علیہ السلام) ـ پر سب و شتم کو عام کرنے کے باوجود جب ایک دن سعد وقاص سے کہا کہ تم علی (علیہ السلام) پر سب و شتم کیوں نہیں کرتے ہو؟ تو اس نے کہا: میں یہ کام ہرگز نہیں کرسکتا ہوں، کیونکہ مجھے بخوبی یاد ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی ایسی تین فضیلتیں بیان فرمائی ہیں کہ میری آرزو اور تمنا ہے کہ کاش ان میں سے صرف ایک ہی فضیلت میرے اندر بھی پائی جاتی۔
١۔ ایک جنگ (تبوک) میں جاتے وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو مدینہ میں اپنا جانشین بنادیا تھا تو انھوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا تھا کہ آپ نے مجھے شہر میں بچوں اور عورتوں کے ساتھ چھوڑ دیا! پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: '' کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ تمہاری نسبت میرے ساتھ ویسی ہی ہو جو ہارون کو موسیٰ سے حاصل تھی (یعنی ان کی جانشینی اور خلافت) بس فرق اتنا سا ہے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا''۔
٢۔ آپ نے جنگ خیبر میں فرمایا: کل میں پرچم اس شخص کے سپرد کروں گا جو خدا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دوست رکھتا ہوگا اور خدا اور پیغمبر بھی اس سے محبت کرتے ہوں گے اس دن ہم سب کی یہی آرزو تھی کہ یہ مقام اور منصب ہمیں مل جائے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: علی (علیہ السلام) کو بلاؤ! ان کو بلایا گیا جبکہ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگایا اور آپ کی آنکھیں فوراً ٹھیک ہوگئیں اور آپ نے فوج کا علم ان کے حوالے کیا اور خدا نے ان کے سرپر قلعہ ٔ قموص کی فتح کا سہرا باندھا۔
٣۔ جب مباہلہ سے متعلق قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی ''فقل تعالوا ندع ابنائنا و ابنائکم''(13)تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین (علیہم السلام) کو بلایا اور کہا: ''خدایا! یہ میرے اہل بیت (علیہم السلام) ہیں''(14)
حضرت علی (علیہ السلام) ـ نے اس تاریخ ساز جنگ کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا : ''ہمیں جنگجوؤں، اسلحوں اور جنگی سازو سامان کے ایک پہاڑ (طوفان) سے مقابلہ کرنا پڑا، ان کے قلعہ نا قابل تسخیر اور ان کی تعداد بہت زیادہ تھی ان کے دلاور اور بہادر ہر روز قلعوں سے باہر آتے تھے، مبارز طلب کرتے تھے اور ہماری فوج کا جو شخص بھی میدان میں قدم رکھتا تھا مارا جاتا تھا جس وقت جنگ کی آگ بھڑک گئی اور دشمن نے مبارز طلب کیا ،ہمارے سپاہیوں کے ہاتھ پیر دہشت اور خوف کے مارے لرز نے لگے اور وہ ایک دوسرے کو عاجزانہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے سب نے مجھ سے آگے بڑھنے کے
لئے کہا: پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی مجھ سے کہا کہ آگے بڑھو اور قلعہ پر حملہ کرو، میں نے قدم آگے بڑھایا اور ان کے جس پہلوان اور بہادر سے روبرو ہوا اس کو ہلاک کر ڈالا اور ان کے جس جنگجو نے میرا مقابلہ کرنا چاہا وہ زمین پر نظر آیا اور آخر کار وہ عقب نشینی پر مجبور ہوگئے ،اس کے بعد اس شیر کی طرح جو اپنے شکار کا پیچھا کر رہا ہو میں نے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ انھوںنے قلعے میں پناہ لے لی اور اس کے دروازے کو بند کر لیا، میں نے قلعہ کے دروازے کو اکھاڑ پھینکا اور تنہا قلعہ میں داخل ہوگیا ... اس موقع پر خداوند عالم کے علاوہ میرا اور کوئی معاون و مددگار نہیں تھا۔(15)
آخری قلعہ فتح ہونے کے بعد خیبریوںنے اپنی شکست تسلیم کرلی اور ہتھیار ڈال دئے اور جنگ تمام ہوگئی ۔ مورخین کے مطابق یہودیوں کے ٩٣ آدمی(16) مارے گئے اور شہداء اسلام کی تعداد ٢٨ تھی۔(17)
یہودیوں کا انجام
جب خیبر کے یہودیوں نے اپنی شکست تسلیم کرلی تو انھوں نے اس بات کو دلیل بنا کر کہ وہ لوگ کھیتی باڑی کے ماہر ہیں، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ خواہش کی کہ وہ لوگ اپنے اس علاقہ میں اسی طرح باقی رہیں اور کھیتی باڑی کرتے رہیں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی اس درخواست کو قبول فرما لیا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ ہر سال اپنی کھیتی باڑی اورغلہ کی آمدنی کا آدھا حصہ اسلامی حکومت کو ادا کریں گے(18) اور جس وقت بھی آنحضرت کہیں ان لوگوں کواس ملک سے باہر جانا ہوگا.(19) یہ معاہدہ حضرت عمر کی خلافت کے زمانہ تک اسی طرح باقی رہا مگر خلیفۂ دوم کے دور حکومت میں ان لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف پھر شورش کرنا چاہی تو حضرت عمر نے ان کو شام کی طرف جلاوطن کردیا۔(20)
فدک
اہل خیبر کی شکست کے بعد، فدک کے یہودی کسی مقابلہ کے بغیر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے تسلیم ہوگئے اور خیبریوں کے معاہدے کی طرح، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایک معاہدہ کیا اور چونکہ فدک کسی جنگ کے بغیر فتح ہوا تھا لہٰذا اس کی آدھی آمدنی ''خالصہ'' یعنی رسول خدا کی ذاتی ملکیت قرار پائی۔(21)
۔۔۔۔۔۔۔
مآخذ:
١۔ واقدی ،المغازی، تحقیق مارسڈن جونس، ج٢، ص٦٣٤، سیرة النبویہ، ابن ہشام، ج٤، ص٣٦٠.
 ٢۔ واقدی ،گزشتہ حوالہ، ص٧٠٣۔ ٣٦٧، یعقوبی نے ان کی تعداد بیس ہزار افراد لکھی ہے۔ (ج٢، ص٤٦.)
 ٣۔ واقدی ،گزشتہ حوالہ، ص ٦٣٧۔
4۔ یسیرم بن رزام یا رازم بھی لکھا گیا ہے۔ (ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٤، ص٢٦٦.)
 5۔ الکبریٰ ابن سعد، ج٢، ص٩٢۔ ٩١.
6۔ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ،ج ٤، ص ٢٦٧۔ ٢٦٦.
 7۔ محمد حسین ہیکل، حیات محمدۖ، (قاہرہ: مکتبہ النہضہ المصریہ، ط٨)، ص ٣٨٦.
 8۔ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٦٨٩، طبقات الکبریٰ محمد بن سعد، (بیروت: دار صادر) ج٢، ص ١٠٧، گزشتہ حوالہ، ابن ہشام، ج٤، ص ٣٦٤.
 9۔ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٦٣٩.
10۔ وہی حوالہ ، ص ٦٤٦.
 11۔ طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٣، ص ٩٣؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٤، ص ٣٤٩؛ ابن کثیر، البدایہ و النہایہ (بیروت: مکبتة المعارف، ط ٢، ١٩٧٧ع) ج٤، ص١٨٦.
اپنی کرامت سے شفا بخشی اور اس کے بعد اسلامی فوج کا علم ان کے حوالے کیا اور فرمایا :
ان کی طرف جاؤ اور جب ان کے قلعہ کے پاس پہنچنا تو پہلے انھیں اسلام کی دعوت دینا اور خدا کے احکام کی اطاعت کے بارے میں جو ان کا وظیفہ ہے وہ ان کو یاد دلانا، خدا کی قسم اگر پروردگار نے تمہارے ہاتھوں ان میں سے ایک شخص کو بھی ہدایت کر دی تو یہ تمہارے لئے اس سے کہیں بہتر ہے کہ تمہارے پاس سرخ بالوں والے (11) بہت سے اونٹ ہوں۔(12)
11۔ سرخ بالوں والے اونٹ سب سے زیادہ پسندیدہ اور قیمتی ہوتے تھے یہ مثال بہت زیادہ مال و دولت کی طرف اشارہ تھی ۔
12۔ پیغمبر اسلاۖم کا یہ کلام اور حضرت علی (علیہ السلام) کی سر داری تھوڑے سے الفاظ اور تعبیرات کے اختلاف کے ساتھ مندرجہ ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہیں:
صحیح بخاری، تحقیق: الشیخ قاسم اشماعی الرفاعی (بیروت: دار القلم، ط١، ١٤٠٧ھ.ق)، ج٥؛ کتاب المغازی، باب ١٥٥، ص٢٤٥؛ صحیح مسلم، بشرح النوی (بیروت: دار الفکر، ١٤٠١ھ.ق)، ج١٥، ص١٧٧۔ ١٧٦؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص١١١۔ ١١٠؛ صدوق، کتاب الخصال (قم: منشورات جماعة المدرسین، ١٤٠٣ھ.ق)، ص٣١١ (باب الخمسة)؛ طبری، تاریخ الامم والملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٣، ص٩٣؛ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة (بیروت: مؤسسة الاعلمی للمطبوعات)، ج١، ص٤٧؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص ٢١٩؛ ابن عبد البر، الاسیتعاب فی معرفة الاصحاب، (در حاشیۂ الاصابہ)، ج٣، ص٣٦؛ حاکم نیشاپوری، المستدرک علی الصحیحین (بیروت: دار المعرفہ، ١٤٠٦ھ.ق)، ج٣، ص١٠٩؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٣، ص٣٤٩؛ ابن حجر ہیثمی مکی، الصواعق المحرقة، مکتبة القاہرہ، ١٣٨٥ھ.ق)، ص١٢١؛ واقدی، المغازی، ج٢، ص٦٣٥؛ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٤٦؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج٤، ص١٨٦؛ حلبی، انسان العیون (السیرة الحلبیہ)، ج٢، ص٧٣٦۔ ٧٣٣؛ ابوجعفر محمد بن حسن طوسی، الامالی (قم: دار الثقافہ، ١٤١٤ھ.ق)، ص٣٨٠۔
 13۔ سورۂ آل عمران، آیت ٦١.
 14۔ شرح صحیح مسلم، النووی، ج١٥، ص ١٧٦، سعد وقاص (قبیلۂ بنی زہرہ سے) جو کہ سابقین اسلام میں سے تھا اور ١٧ سال کی عمر میں (الطبقات الکبریٰ، ج٣، ص ١٣٩، یا ١٩ سال کی عمر میں (السیرة الحلبیہ، ج٩، ص ٤٣٤) مکہ میں دائرہ اسلام میں آگیا وہ جب مدینہ میں تھا تو اس کا شمار بڑے مہاجروں میں ہوتا تھا اور سیاسی طور پر حضرت علی (علیہ السلام) کا رقیب اور عمر کے قتل ہو جانے کے بعد خلافت کی چھ رکنی کمیٹی کا ایک ممبر تھا۔ اور اس کمیٹی میں اس نے علی (علیہ السلام) کو ووٹ نہیں دیا، (ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١، ص١٨٨) عثمان کے قتل ہو جانے کے بعد حضرت علی (علیہ السلام) لوگوں کے عظیم استقبال پر ظاہری طور پر خلافت و حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اس وقت بہت ہی لوگ تھے جنھوں نے آپ کی بیعت نہیں کی ان میں یہ بھی ایک تھا۔ (مسعودی، مروج الذہب، ج٢، ص ٣٥٣؛ ابن اثیر ، الکافی فی التاریخ، ج٣، ص١٩١) لیکن ان تمام باتوں کے باوجود علی (علیہ السلام) کی تین بڑی فضیلتوں کا معترف تھا۔
 15۔ صدوق، الخصال، ص ٣٦٩، باب السبعہ.
 16۔ بحار الانوار، مجلسی، ج٢١، ص٣٢.
 17۔ تاریخ پیامبر اسلام: محمد ابراہیم آیتی، (تہران: ناشر دانشگاہ تہران، چ ٣، ١٣٦١) ص ٤٧٥۔ ٤٧٣.
 18۔  واقدی، المغازی، ج ٢، ص ٦٩٠، معجم البلدان، یاقوت حموی، ج٢، ص ٤١٠ (لغت خیبر.)
19۔  ابن ہشام،السیرة النبویہ، ج ٣، ص ٣٥٢.
 20۔  یاقوت حموی،گزشتہ حوالہ، ص ٤١٠، فتوح البلدان (بیروت: ١٣٩٨) ص ٣٧۔ ٣٦.
 21۔  بلاذری، گزشتہ حوالہ،ص ٤٢، گزشتہ حوالہ، ابن ہشام، ج ٢، ص ٣٥٢، الکامل فی التاریخ ، ابن اثیر، ج٢، ص ٢٢٤، گزشتہ حوالہ واقدی، ج ٢، ص٧٠٧، گزشتہ حوالہ، یاقوت حموی، ج ٤، ص ٢٣٨ (لغت فدک): الاموال، ابو عبید قاسم بن سلام: تحقیق محمد خلیل ہراس (بیروت: دار الفکر، ط ٢، ١٣٩٥ھ ص ١٦.
+ تحریر شده  27 Jun 2011میں ٹایم 10 AM  قلم نگار سیفی  | 
آیت اللہ العظمی صافی سے گفتگو(دوسرا حصہ)

سوال: ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کے آثار اور تصنیفات میں سب سے زیادہ امام زمان (عج) کی طرف توجہ دی گئی ہے مہربانی فرما کر بتائیں کہ آپ کس زمانے سے اس موضوع کی طرف متوجہ ہوئے ہیں؟جواب : بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ علی محمد و آلہ الطاھرین آپ کے سوال کا جواب اس شعر سے شروع کرتا ہوں۔لاعذب اللہ امی انھا شربتحب الوصی و غذنسہ باللبنو کان لہ والد یھوی اباحسنقصرت من ذی وذا اھوی اباحسنہماری فیملی میں امام مہدی (عج) کے موضوع پر بہت زیادہ توجہ ہے اور ہمیشہ ان کے حوالے سے گفتگو رہی ہے، جب سے میں نے اپنے آپ کو پہچانا اسی وقت سے میں نے حضرت کے نام مبارک اور ان کے حالات اور ان کی معرفت کے بارے میں اہم مطالب کو بھی جانا ،میں شروع سے ان سے مانوس تھا میرے والد بزرگوار جو کہ اپنے زمانہ کے بلند پایہ فقیہ تھے امام کے ساتھ خصوصی چاہت رکھتے تھے، یوں سمجھ لیں کہ ان کی زندگی امام(عج) کی یاد کے ساتھ گزر رہی تھی، انہوں نے امام مہدی علیہ السلام کی  مدح اور ان کی زیارت کے شوق میں چند ہزار اشعار بھی کہے، اور وہ ساری زندگی ہر سال ۱۵شعبان کو گلپایگان میں جشن ولادت امام مہدی علیہ السلام برپا کرتے تھے۔ادھر میری والدہ جو کہ خود ایک عالمہ فاضلہ خاتون تھیں ولایت ائمہ بالخصوص حضرت صاحب الامر (عج) کے لئے بہت اہتمام کیا کرتی تھیں، میرزا نوری کی کتاب نجم الثاقب کہ جس میں امام زمان سے  ملاقاتیں تحریر ہیں، سے بہت مانوس تھیں اسی لئے میں بھی بچپن سے ہی اس کتاب سے سیکنڑوں حکایتیں بار بار پڑھ چکا تھا۔دوسری وجہ۔ ۔ ۔ کہ میں نوجوانی میں ہی امام مہدی علیہ السلام کے متعلق مختلف موضوعات اور مسائل سے آشنا ہوا۔ یہ تھی کہ مذہب باطل و فاسد بہائیت کا ایک مبلغ شہر گلپایگان میں تھا رضا خان (سابق بادشاہ ایران) کے زمانے میں اس کی گمراہ کن فعالیت اور تبلیغ کے حالات بہت تفصیلی ہیں کہ ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے، میرے والد محترم اپنے وظیفہ کی بنا پر کہ جو علماء کے کندھوں پر ہے کہ لوگوں کے عقائد محفوظ رہیں اور امام ھادی علیہ السلام کی اس حدیث کے مصداق بن کر انہوں نے فرمایا : لولا من یبیق بعد غیبۃ قائمکم (ع) من العلماء الداعین الیہ والد الین علیہ والذا بین عن دینہ بحجج اللہ ۔۔۔ لما بقی أ الا ارتد عن دین اللہ ۔ ۔ ۔  اس کے گمراہ کن تبلیغ کے مدمقابل آئے اور بہت بڑے جہاد کے ساتھ بہت سے لوگوں کو ارتداد سے نجات دی اور اس کے شر کو بھی ختم کیا ،تو اس  مسئلہ کی بنا پر اس زمانہ میں بندہ حقیر نے بھی ان بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا کہ جو بہائیت کی رد میں لکھی گئی تھیں مثلا کشف الحیل آیتی کی جلدیں ، فلسفہ نیکو، ایقاظ ۔ ۔ اسی طرح وہ کتابیں بھی مطالعہ کیں کہ جو والد محترم امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر مختلف آیات و روایات پر تحقیق کرکے لکھیں، اس طرح امام زمان (عج) کے حوالے سے بہت سی معلومات کا ذخیرہ میرے ذہن میں جمع ہوا ، والد محترم امام علیہ السلام کے موضوع اور جھوٹے مہدیوں کی رد میں کتابیں لکھنے کے ساتھ ۔ ۔ کہ جن میں انفاس العرفان معروف ہے۔ ۔ اسی موضوع پر اور مذہب فاسد بہائیت کی رد میں اشعار بھی کہے کہ ان اشعار میں علمی انداز سے بہائیت کے بے بنیاد شبہات کا جواب دیا گیا ، بندہ حقیر نے انہی اشعار کی تشریح بھی لکھی ہے کہ جو ان کےاشعار کے ساتھ چھپ چکی ہے ، بہرحال بندہ حقیر کو فخر ہے کہ امام زمان ارواح العالمین لہ الفداء کی نوکری ساری زندگی جاری رکھی ہے۔مجھے یاد ہے کہ بچپن میں والد محترم کی طرف سے ۱۵شعبان کی مناسبت سے جو بیان لکھا جاتا تھا ،میں اسے یاد کرلیتا تھا اور مختلف مواقع پر  پڑھا کرتا تھا اور یہ بیان بہت لطیف خوبصورت اور ادبی انداز میں ہوتا تھا کہ اس میں فارسی ادب کی خوبصورت عبارتوں کے علاوہ عربی اشعار بھی ہوتے کہ جو والد محترم نے خود کہے ہوتے تھے۔سوال:کتاب منتخب الاثر جیسی عظیم کتاب لکھنے میں آپ کا کتنا وقت لگا؟جواب: درست یاد نہیں ہے میرا خیال ہے دو تین سال  لگے ہوں گے میں نے اس وقت کے علاوہ کہ جو آیت اللہ بروجردی کے درس میں صرف ہوتا ہے ،باقی تمام وقت یہاں تک کہ غذا کھاتے وقت بھی اسی کتاب کی فکر میں ہوتا ،کیونکہ میں نے اس کتاب میں روش کے حوالے سے جدت پیدا کی کہ اس سے پہلے جو کتابیں لکھی گئی تھیں ان میں ایسی روش نہ تھی ،اگر میں اسے پچھلی کتابوں کی روش کی مانند لکھتا تو یہ دس جلدیں ہوجاتیں، تو اس کام کے لئے بہت وقت اور غور و فکر کی ضرورت تھی ہر حدیث کی دلالت کو دیکھنا ہوتا تھا کہ کس موضوع کی طرف اشارہ کررہی ہے، ممکن ہے کہ ایک روایت دس موضوعات پر اشارہ کررہی ہو اور اسے دس ابواب میں لکھا جاسکتا ہے لیکن میں نے اسے ایک باب میں لکھا اور دوسرے ابواب میں تکرار سے بچنے کے لئے اس کی طرف اشارہ کیا مثلا واضح کیا کہ یملأ الارض قسطا و عدلا دو سو یا تین سو روایات ہیں البتہ پہلے ایسا کام نہ ہوا تھا۔

عرض خدمت ہے کہ  کتاب منتخب الاثر کی مکمل شناخت اور اس کے تمام تر فوائد اور نتائج کو جاننے کے لئے بہرحال اپنی جگہ تحقیق اور دقیق بحث کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

+ تحریر شده  8 May 2011میں ٹایم 11 AM  قلم نگار سیفی  | 
آیت اللہ العظمی صافی سے گفتگو

 

بہت سے دانشور، اہل فن و ادب، مصنفین اور شاعر حضرات ہیں کہ اگرچہ بظاھر خاموش اور گمنام ہیں لیکن ایسے کامل عاشق مہدی(عج) ہیں کہ اپنی ساری عمر کو غیبت کے شبستان میں چراغ انتظار کو روشن رکھنے میں وقف کیا ہوا ہے۔

اگرچہ یہ لوگ اپنے مولی اور امام عصر(عج) کے نزدیک جانے پہچانے ہیں ،لیکن یہ افسوس ہے کہ ہمارا مہدی(عج) کے شیعوں کا معاشرہ ان لوگوں کو جنہوں نے سالہاسال عشق مہدی میں قدم بڑھائے اور اس راہ میں بہت نفیس آثار چھوڑے ان کو نہ پہچانے۔

اس مقالہ میں ہم فقیہ عالی قدر آیت اللہ لطف اللہ صافی گلپایگانی کے بارے میں کہ جو واقعا ہی حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (عج)کے عاشق و ارادت مند ہیں اور مہدویت و انتظار کے موضوع  پر انتہائی مخلص اور قابل قدر مصنف ہیں، ان سے گفتگو کریں گے اس سے پہلے کہ ان سے گفتگو کا آغاز کریں ضروری ہے کہ ان کی پربرکت زندگی اور ان کے نفیس آثار پر مختصر سا اشارہ کیا جائے :

قبلہ محترم ۱۹جمادی الاول ۱۳۳۷ھ میں گلپایگان میں پیدا ہوئے ان کے والد محترم جناب آیت اللہ محمد جواد صافی مرحوم اپنے زمانہ کے بزرگ علماء میں سے تھے اور ان کی فقہ ، اصول، کلام، اخلاق ، حدیث اور تفسیر کے موضوعات پر بہت سی تصانیف تھیں، ان کی والدہ محترمہ بھی ایک عالمہ خاتون ہونے کے ساتھ شاعرہ اہلبیت تھیں ، قبلہ محترم نے ادبیات، کلام، تفسیر، حدیث، فقہ اور اصول میں سب سے پہلے گلپگان میں ہی عالم جلیل القدر ابوالقاسم کہ جو قطب کے لقب سے مشہور ہیں ، ان کے محضر سے کسب فیض کیا پھر اپنے والد محترم کے پاس تعلیم و تحصیل میں مشغول رہے ۱۳۶۰ھ میں قم مقدس میں اعلی تعلیم کے لئے تشریف لائے، اس زمانہ کے بڑے علماء مراجع کرام سے کسب فیض کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے علمی تحقیقات میں بھی مشغول رہے اور کچھ عرصہ نجف اشرف میں بھی رہے، قبلہ محترم کے اہم ترین اساتذہ مندرجہ ذیل تھے : حضرت آیت اللہ سید محمد تقی خوانساری ، سید محمد حجت کوہ کمری، سید صدر الدین صدر عاملی، سید محمد حسین بروجردی، سید محمد رضا گلپایگانی، محمد کاظم شیرازی ، سید جمال الدین گلپایگانی اور شیخ محمد علی کاظمی قدس اللہ اسرارھم۔

قبلہ محترم کی فقہ ، اصول، کلام، تفسیر، اخلاق، حدیث، تاریخ اسلام وغیرہ میں فراوان تصنیفات ہیں اور اشعار کا دیوان بھی چھپ چکا ہے لیکن ان کے اہم ترین اور قابل توجہ آثار وہ کتابیں ہیں کہ جو آپ نے فرھنگ مہدویت اور انتظار کی تفسیر و تشریح میں لکھیں اور بہت سے شبھات کا تحقیقی جواب دیا ، اگر دیکھا جائے تو یہ کتابیں قبلہ محترم کے امام وقت حضرت ولی العصر ارواحنا لہ الفداء سے خالص عشق و ارادت کی ترجمان ہیں اس حوالے سے آپ کی طرف سے جو اہم ترین کتابیں سامنے آئی ہیں وہ یہ ہیں : منتخب الاثر فی الامام الثانی عشر، امامت و مہدویت، العقیدہ ، ا لمہدویت، نوید امن و امان، اصالت مہدویت، ، انتظارعامل مقاومت و حرکت ، فروغ ولایت دردعای ندبہ، وابستگی جہان بہ امام زمان، معرفت حجت خدا اور شرح دعای اللھم عرفنی نفسک ۔ ۔

 

(جاری ہے)

+ تحریر شده  19 Apr 2011میں ٹایم 8 PM  قلم نگار سیفی  | 

ماہ ربیع الاول میں جہاں امام عسکری کی دلسوز شہادت کا غم ہے وہاں امام عصر عجل اللہ کی تاجپوشی ولایت کی بے پناہ خوشی بھی ہے ۔

بہت سے امام زمان عجل اللہ کے شیعوں اور عاشقوں کے دلوں میں انکے انتطار کی تڑپ کے ساتھ ساتھ یہ سوال ہے کہ ہم ان کے وجود پرنور سے کیسے فیض لیں ؟قابل توجہ بات یہ ھے کہ جب امام مھدی علیہ السلام سے آپ کی غیبت کے زمانہ میں فیضیاب ھونے کے طریقہ کار کے بارے میں سوال کیا جاتا ھے تو آپ فرماتے ھیں:  ”وَ اٴمَّا وَجہُ الإنْتِفَاعِ بِی فِی غَیْبَتِی فَکا الإنْتِفَاعِ بِالشَّمْسِ إذَا غَیَّبَتْہَا عَنِ الاٴبْصَارِ السَّحَابَ“۔(احتجاج، ج۲، ش ۳۴۴، ص ۵۴۲۔)

”میری غیبت کے زمانہ میں مجھ سے مستفید ھونا اسی طرح ھے جس طرح سورج سے فائدہ اٹھایا جاتا ھے جبکہ وہ بادلوں میں چھپ جاتا ھے“۔

امام مھدی علیہ السلام نے اپنی مثال سورج جیسی اور اپنی غیبت کی مثال بادلوں کے پیچھے چھپے سورج کی دی ھے جس میں بھت سے نکات پائے جاتے ھیں لہٰذاھم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ھیں:

سورج ، نظام شمسی میں مرکزی حیثیت رکھتا ھے اور دوسرے سیارے اس کے گرد حرکت کرتے ھیں ، اسی طرح امام عصر علیہ السلام کا وجود گرامی بھی کائنات کے نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ھے۔

”بِبَقَائِہِ بَقِیَتِ الدُّنْیَا وَ بِیُمْنِہِ رُزِقَ الوَریٰ وَ بِوُجُوْدِہِ ثَبَتَتِ الاٴرْضُ وَ السَّمَاءُ“۔(مفاتیح الجنان، دعای عدیلہ)

”اس (امام) کی وجہ سے دنیا باقی ھے، اور اس کے وجود کی برکت سے کائنات کے ھر موجود کو روزی ملتی ھے اور اس کے وجود کی خاطر زمین اور آسمان مستحکم طور پر باقی ھیں“۔

سورج ایک لمحہ کے لئے بھی نور افشانی میں کنجوسی نھیں کرتا، اور ھر چیز اپنے رابطہ کے لحاظ سے سورج کے نور سے فیضیاب ھوتی ھے۔ چنانچہ حضرت ولی عصر علیہ السلام کا وجود بھی تمام مادّی اور معنوی نعمتوں کو حاصل کرنے میں واسطہ ھے، ھر شخص اس مرکز کمالات سے اپنے رابطہ کے مطابق مستفیض ھوتا ھے۔

اگر یہ سورج بادلوں کے پیچھے بھی نہ رھے تو پھر اس قدر ٹھنڈک اور اندھیرا ھوجائے گا کہ کوئی بھی جاندار زمین پر نھیں رہ سکے گا۔ اسی طرح اگر یہ کائنات امام علیہ السلام کے وجود سے محروم ھوجائے (اگرچہ پردہ غیبت میں بھی نہ ھو) تو پھر مشکلات، پریشانیاں اور مختلف بلائیں انسانی زندگی کو آگے بڑھنے میں مانع ھو جائیں گی اور تمام موجودات کا خاتمہ ھوجائے گا۔

امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) شیخ مفید علیہ الرحمہ کو ایک خط لکھتے ھیں جس میں اپنے شیعوں سے خطاب فرماتے ھیں:

”اِنَّا غَیْرُ مُہْمِلِیْنَ لِمُرَاعَاتِکُمْ وَ لاٰ نَاسِیْنَ لِذِکْرِکُمْ وَ لَولٰا ذَلِکَ لَنَزَلَ بِکُمُ اللاَّوَاءُ وَ اصْطَلَمَکُمُ الاٴعْدَاءُ“۔(احتجاج، ج۲، ش ۳۵۹، ص ۵۹۸)

”ھم تم کو ھرگز اپنے حال پر نھیں چھوڑتے، اور ھرگز تمھیں نھیں بھولتے، اگر (ھمیشہ ھماری توجہ) نہ ھوتی تو تم پر بھت سی سختیاں اور بلائیں نازل ھوتیں اور دشمن تم کو نیست و نابود کردیتے“۔

+ تحریر شده  13 Feb 2011میں ٹایم 12 PM  قلم نگار سیفی  | 

روایات میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب کےمتعدد اوصاف و خصوصیات بیان ہوئی ہیں ، چند اوصاف ملاحظہ فرمائیں:

۱۔ خدا کی حقیقی معرفت:حضرت کے اصحاب حقیقی معنوں میں خداوند متعال کی معرفت رکھتے ہیں ، چنانچہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب ایسے لوگ ہیں جنہوں نے خدا کو اسی طرح پہچانا ہے جیسے پہچاننے کا حق ہے (منتخب الاثر ، ص۸۳، حدیث ۲۲)

اگر انسان کوشش کرے تو ایسی معرفت زمانہ کے امام کے بارے میں بھی پیدا کی جا سکتی ہے ، البتہ خداوند متعال کی حقیقی معرفت ائمہ اطہار بالخصوص امام زمانہ علیہ السلام  کی معرت کے بغیر ممکن نہیں ہے ، چنانچہ امام صادق علیہ السلام امام حسین علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ علیہ السلام  نے فرمایا :

"اللہ نے بندوں کو اس لئے پیدا اور خلق کیا ہے کہ اس ذات کو پہچانیں اور جب انسان خدا کو پہچانے تو اسے چاہئے کہ اس کی عبادت و بندگی کرے اور جب کوئی شخص خدا کی عبادت اور بندگی کرے گا تو دوسری مخلوقات (اور انسانوں ) کی بندگی کرنے سے بے نیاز ہوجائے گا ، یہاں پر ایک شخص نے سوال کیا :میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، خدا کی معرفت کیا ہے ؟تو آپ  علیہ السلام  نے فرمایا :"خدا کی معرفت سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے زمانے کے امام ۔جن کی اطاعت کو خدانے واجب قرار دیا ہے اسکی معرفت حاصل کریں اور اسکی پیروی کریں (بحار الانوار ، ج۲۳، ص۸۳)

۲۔امام کی اطاعت :حقیقی منتظر اپنے زمانے کے امام کی اطاعت اور پیروی کرتے ہیں ، اطاعت اور پیروی حقیقت میں معرفت امام کا نتیجہ ہے ، اس لئے کہ امام کی اطاعت حقیقت میں خدا ہی کی اطاعت ہے چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ فرماتے ہیں۔

"وہ لوگ (امام مہدی کے اصحاب)ہمیشہ اپنے زمانہ کے امام کی پیروی کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں"( بحار الانوار ،۵۲، ص۳۰۹)

۳۔عبودیت و بندگی : حضرت مہدی علیہ السلام کے اصحاب کی ایک اور صفت یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو صرف خدا کی عبادت و بندگی میں گزار دیتے ہیں ، چنانچہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :"یاران مہدی وہ لوگ ہیں جو راتوں کو عبادت اور دنوں کو روزہ کی حالت میں بسر کرتے ہیں ، ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :"یہ وہ لوگ ہیں جو فولادی دل رکھتے ہیں"یعنی خدا کی بندگی اور عبادت کی راہ میں وہ اس قدر محکم اور راسخ العقیدہ ہیں کہ دنیا کی آفات ، بلا اور حوادث کا ان کے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔

۴۔شہادت طلب :حضرت امام مہدی  علیہ السلام  کے اصحاب ہمیشہ شہادت کے طلبگار ہیں چنانچہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "وہ لوگ تمنا کرتے ہیں کہ راہ خدا میں انہیں شہادت نصیب ہوجائے"(بحار ،۵۲،ص۳۰۹)

۵۔ہمدلی اور اتحاد :حضرت مہدی  علیہ السلام  کے اصحاب کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ وہ آپس میں ہمدل اور متحد ہیں ، چنانچہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "مہدی(ع) کے اصحاب میں ہمدلی ، یگانت اور اتحاد پایا جاتا ہیے(یوم الخلاص ، ص۲۲۴)

۶۔با بصیرت:حضرت مہدی علیہ السلام کے اصحاب بصیرت اور نورانیت کے مالک ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے دل نورانی اور حقیقی معنوں میں چشم بصیرت رکھتے ہیں یہ لوگ خود بھی ہدایت یافتہ ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی ہدایت کی راہ پر گامزن کرتے ہیں، چنانچہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :"یہ لوگ ایسا چراغ ہیں کہ ان کا دل فانوس کی طرح روشن اور منور ہے"(بحار،۵۲، ص۳۰۸)

+ تحریر شده  15 Jan 2011میں ٹایم 1 PM  قلم نگار سیفی  |