تبليغاتX
مهدی فورم
تو آن‌ راز رشيدي‌ ميراث‌خوار رنج هابيلم‌، برادر! آموزه مهدویت در زیارت عاشورا  
+ تحریر شده  20 Dec 2009میں ٹایم 10 AM  قلم نگار سیفی  | 
+ تحریر شده  20 Dec 2009میں ٹایم 10 AM  قلم نگار سیفی  | 

دوسرے خلیفہ کے دربار میں ایک یہودی شخص نے کہاتھا

اگر (غدیر میں نازل ہو نے والی) آیت اَلْیَوْ مَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ہماری امت میں نا زل ہو تی تو ہم اس دن عید منا تے .

بنی اسرائیل کے انبیاء جس دن اپموعود غدیرنا جانشین معین فر ما تے تھے اس دن کو عید کا دن قرار دیتے تھے ۔

غدیر کے دن بھی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے علی علیہ السلام  کو اپنا جا نشین معین فر ما یا .

عید غدیر منا نے کا مقصد اس تا ریخی دن کی یاد کوشیعوں کے دل میں باقی رکھنا اور اس کے مطالب کو زندۂ جا وید رکھنا ہے

غدیر تشیع کے صفحۂ تا ریخ پر ولایت کی دائمی نشانی ہے ۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام  کو روز غدیر عید منانے  کی وصیت فر ما ئی .

+ تحریر شده  10 Dec 2009میں ٹایم 12 PM  قلم نگار سیفی  | 

انسان کی سب سے پہلی اور اہم ذمہ داری اپنے خالق اور پروردگار کی معرفت حاصل کرنا ہے چونکہ جب تک اس کی معرفت حاصل نہ ہوگی بندگی اور اطاعت کا صحیح راستہ انسان کے لئے نہیں کھلتا(کلینی، کافی، ج۸، ص۲۳۷، ح۳۴۷) اس وجہ سے قرآن مجید اور روایات میں معرفت خدا کے ضروری ہونے پر بہت سے مطالب ذکر ہوئے ہیں۔از نشر و هنرمند مهدوی کودک و نوجوان حمایت بیشتری صورت گیرد

 بعض قرآنی آیات میں خدا کی تعریف و توصیف اور اس کی مختلف صفات کو ذکر کیا گیا ہے اس طرح ائمہ معصومین علیھم السلام نے روایات، دعاؤں اور خطبات میں وسیع پیمانے پر خدا اور اس کی صفات کو بیان کیا ہے ۔

روایات کی نگاہ میں خدا اور اس کی صفات کی معرفت کا حصول اولیائے خدا اور آئمہ معصومین علیھم السلام کی معرفت کے ذریعہ سے ممکن ہے، چونکہ یہ ہستیاں اسماء و صفات الھی اور پروردگار کے جمال و جلال کی مظہر ہیں، معصومین انسان کامل ہیں جن کو خداعالم نے زمین پر اپنا خلیفہ اور نمائندہ قرار دیا ہے اس نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ ان ہستیوں کے ذریعہ سے پہچانا جائے ان کے ذریعہ سے اس کی اطاعت ہو اور ثواب و عذاب کا معیار بھی ان پر ایمان اور ان کی اطاعت کے مطابق ہو جب امام حسین علیہ السلام سے معرفت خدا اور اس کے حصول کے طریقے کے بارے میں سوال کیا گیا تو حضرت نے جواب دیا: معرفت اھل کل زمان امامہم الذی یجب علیھم طاعتهَ(شیخ صدوق علل الشرائع ج۱ ص۹)         

ترجمہ: معرفت خدا سے مراد ہر زمانے کے لوگوں کا اپنے امام کی معرفت کا حصول ہے وہ امام کہ جس کی اطاعت ان پر واجب ہے.

 واضح الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ا مام کی پہچان معرفت خدا کا ذریعہ ہے اور انسان امام کی معرفت حاصل کرکے اور اس کے فرامین اور احکام پر عمل کرکے زندگی کے صحیح اور مستقیم راستے پر قدم رکھ سکتا ہے اور وہ سعادت جو خداوندعالم نے اس کے لئے محفوظ رکھی ہے اس تک پہنچ سکتا ہے۔ معرفت خدا کا حصول اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اس شخص کی پہچان نہ ہو جو اس کی طرف سے بندوں کے لئے راہنمائی اور رہبری کے مقام پر فائز ہے

شیخ صدوق رہ مذکورہ احادیث کی وضاحت میں فرماتے ہیں :

اس سے مراد یہ ہے کہ ہر زمانے کے لوگ یہ جان لیں کہ خداوند عالم وہ ہستی ہے کہ جس نے انہیں کسی زمانے میں بھی امام معصوم کے بغیر نہیں چھوڑا لہذا جو شخص بھی اس خدا کی عبادت کرے کہ جس نے ان پر کوئی حجت (امام)قرار نہ دی ہو تو اس نے گویا غیر خدا کی عبادت کی۔( شیخ صدوق علل الشرائع ج۱ ص۹ ح۱)

 

+ تحریر شده  16 Nov 2009میں ٹایم 11 AM  قلم نگار سیفی  | 

قرآن وسنت کی رو سے ہر دور و زمانہ میں ایک حجت خدا کا وجود ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر زمین پر حجت خدا نہ ہو تو یہ سب فیض منقطع ہوجائیں گے لہذا ہر زمانہ میں اللہ تعالی کی طرف سے ایک حجت خدا خواہ بعنوان نبی یا بعنوان وصی یہ ذمہ داریاں رکھتی ہے اور تمام مادی و معنوی فیوض اس کے مبارک وجود کے ذریعہ مخلوقات تک پہنچنے ہیں۔آن قدر عاشقم که به تو می‌خورم قسم

امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:

یہ ہمارے وجود کی برکت ہے کہ اللہ تعالی نے آسمان کو گرنے سے روکا ہوا ہے اور یہ ہمارے وجود کی برکت ہے کہ اللہ تعالی نے زمین کو لرزش اور اس کے ساکن لوگوں کو بے آرامی سے بچائے ہوئے ہے بارشیں ہمارے وسیلہ سے نازل ہوتی ہیں رحمت ہمارے ذریعے پھیلتی ہے اور زمین کی برکات ہماری وجہ سے خارج ہوتی ہیں اگر ہم (حجج الہی) میں سے کوئی زمین پر نہ ہو تو زمین اپنے رہنے والوں کو اپنے اندر نگل لے گی(کمال الدین ج۱ ص ۲۳۸باب۲۱، حدیث ۲۲ )

جب جابر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے اپنے امام غائب کے فائدہ کے بارے میں سوال کیا تو حضرت نے اس حقیقت کو نہایت ہی خوبصورت اور گویا مثال کی صورت میں ان کے لئے بیان کیا فرمایا: ای والذی بعثنی بالنبوۃ انھم یستضیؤن بنورہ وینفعون بولایتہ فی غیبتہ کانتفاع الناس بالشمس ان سترھا سحاب۔

ہاں قسم ہے اس خدا کی کہ جس نے مجھے مقام نبوت پر فائز کیا بلاشبہ اس کے پیروکار اس کی غیبت کے زمانہ میں اس کے نور سے روشنی لیں گے اور اس کی ولایت سے بہرہ مند ہوں گے جس طرح کہ لوگ بادلوں کی اوٹ میں پہناں سورج سے بہرہ مندہوتے ہیں ۔

امام اور حجت خدا کی بادلوں کی اوٹ میں پوشیدہ آفتاب سے تشبیہ بہت سے نکات کی حامل ہے مثلا یہ کہ سورج کے فوائد صرف اس کی براہ راست شعاعوں میں منحصر نہیں ہیں جس وقت وہ بادلوں کی اوٹ میں مخفی ہوتا ہے لوگ اس طرح سورج کے سرشار فوائد سے بہرہ مند ہوتے رہتے ہیں اس طرح کہ اگر ایک لحظ سورج نہ ہو تو مکمل نظام شمسی تباہ ہوجائے ایک اور لطیف تشبیہ میں حضرت کی پانی سے مثال دی گئی ہے انہیں بعنوان "ماء معین" یعنی آب زلال یاد کیا گیا ہے(سورہ ملک آیت۳۰)یہ دونوں مثالیں حضرت کے وجود مبارک کی ضرورت کو بیان کررہی ہیں کہ تمام موجودات و مخلوقات کی مادی و معنوی حیات اس طرح امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود پرنور سے وابستہ ہے کہ جس طرح ان کی دنیاوی زندگی سورج کی روشنی اور پانی سے وابستہ ہے .

+ تحریر شده  20 Sep 2009میں ٹایم 9 PM  قلم نگار سیفی  | 

... أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیدٍ،ْ عَلِی بْنِ الْحَسَنِ بْنِ فَضَّالٍ سے وہ اپنے والد سے اور وہ حضرت رضا علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے اپنے آباء طیبین علیہم السلام سے روایت کی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ایک دن حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا:

اے لوگو!

خدا کا مہینہ برکت، رحمت اور مغفرت کے ساتھ تمہاری جانب آرہا ہے. وہ مہینہ جو خدا کے نزدیک بہترین مہینہ ہے اور اس کے ایام بہترین ایام اور اس کی راتیں بہترین راتیں ہیں اور اس کے لمحات اور ساعات بہترین لمحات و ساعات ہیں.

وہ مہینہ جس میں تمہیں خدا کی ضیافت میں مدعو کیا گیا ہے اور تم اس مہینے میں کرامت الہی کے اہل ہوچکے ہیں

اس مہینے میں تمہاری سانسیں ثواب اور تسبیح و ذکر خداوندی کے زمرے میں آتی ہیں اور تمہاری نیند کے لئےعبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے.

اس مہینے میں تمہارے اعمال قبول ہیں اور تمہاری دعائیں مستجاب ہیں پس اپنے پرودگار سے سچی نیتوں اور پاک دلوں کے ساتھ دعا کرو کہ وہ تمہیں اس مہینے کے روزے رکھنے اور قرآن کی تلاوت کرنے کی توفیق عنایت فرمائے. شقی اور بدبخت وہ شخص ہے جو اس عظیم مہینے میں خدا کی بخشش و مغفرت سے بے بہرہ ہوکر رہے.

اس مہینے میں اپنے بھوک اور پیاس برداشت کرتے ہوئے قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو.

غرباء اور مسکینوں کی مدد کرو اور انہیں صدقہ دو.۔۔۔۔اپنی زبان کو نازیبا کلام سے محفوظ رکھو. اپنی آنکھیں ناروا اور حرام نظروں سے بند کرکے رکھو اور اپنے کانوں کو ان چیزوں پر بند رکھو جو حرام اور ناروا ہیں۔

یتیموں کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤ تا کہ تمہارے بعد تمہارے یتیموں سے مہربانی کا برتاؤ کیا جائے. اپنے گناہوں سے بارگاہ الہی میں توبہ کرو او اس کی طرف لوٹ جاؤ.

نماز کے اوقات میں اپنے ہاتھ دعا کے لئے اٹھاؤ کیونکہ نماز کا وقت بہترین وقت ہے اور ان اوقات میں حق تعالی مہربانی سے اپنے بندوں پر نگاہ ڈالتا ہے اور اگر بندے خدا کے ساتھ راز و نیاز اور مناجات کریں خدا انہیں جواب دیتا ہے اور اگر خدا کو ندا کریں وہ انہیں لبیک کہتا ہے اور اگر اس سے کچھ مانگیں تو وہ عطا کرتا ہے اور جب اس کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی دعائیں قبول فرماتا ہے.

اے لوگو!

۔۔۔اور جان لو کہ حق تعالی نے اپنی عزت کی قسم اٹھا رکھی ہے کہ اس ماہ میں نماز پڑھنے اور سجدہ کرنے والے بندوں کو عذاب سے دوچار نہیں کرے گا اور روز قیامت یہ لوگ دوزخ سے خدا کی امان میں ہونگے.

 اے لوگو!

تم میں سے جو بھی کسی مؤمن روزہ دار کو افطار کروائے خدا کے نزدیک اس کے لئے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب اور اس کے گذشتہ گناہوں کی مغفرت مقرر ہے.

بعض اصحاب نے عرض کیا: ہم سب اس امر پر قادر نہیں ہیں (اور مؤمنین کو افطار نہیں دے سکتے) تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: تم روزہ داروں کو افطار کرواکر جہنم کی آگ سے بچو  خواہ ایک نصف کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے ہے کیوں نہ ہو. ۔۔۔

اے لوگو!

جو شخص اس مہینے میں اپنا اخلاق نیک کردے  صراط پر سے بآسانی گذرے گا جبکہ اس دن صراط پر پاؤں ڈگمگاتے ہیں. جو شخص اس مہینے میں غلاموں اور نوکروں کا کام ہلکا کردے (اور ان کا ہاتھ بٹادے) خدا بروز قیامت اس کا حساب آسان کردے گا

جو شخص اس ماہ لوگوں کو آزار پہنچانے سے اجتناب کرے خدا بروز قیامت اپنا غضب اس سے روک لے گا.

جو شخص اس مہینے بِن باپ یتیموں کا اکرام کرے گا خدا اسے قیامت کے دن عزیز رکھے گا.

جو شخص اس مہینے صلہ رحم کا پاس رکھے  اور رشتہ داروں کی قربت حاصل کرے (اور ان کی مدد کرے) خدا اسے قیامت کے روز اپنے رحمت سے متصل کرے گا اور جو شخص اپنا تعلق رشتہ داروں سے توڑ دے خداوند متعال بروز قیامت اپنی رحمت کو اس سے روک لے گا.

جو شخص اس مہینے مستحب نمازیں ادا کرے خدا اس کو جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے گا. اور جو شخص نماز واجب ادا کرے  خداوند اس کو دیگر مہینوں کی واجب نمازوں کے ستر گنا ثواب عطا کرے گا.

جو شخص اس مہینے کے دوران مجھ پر صلوات و درود بھیجے خدا اس کے اعمال کا ہلکا پلڑا بھاری کردے گا اور جو شخص اس مہینے کے دوران ایک آیت کی تلاوت کرےگا اس کا ثواب اس شخص کی مانند ہے جس نے دوسرے مہینوں میں قرآن ختم کردیا ہو.

اے لوگو!

اس مہینے جنت کے دروازے کھلے ہیں. خداوند  متعال سے دعا کرو کہ انہیں تمہارے اوپر بند نہ کرے اور اس مہینے جہنم کے دروازے بند ہیں اور خدا سے التجا کرو کہ انہیں تمہارے لئے کھول نہ دے.

شیاطین اس ماہ غل و زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں اور خدا سے التجا کرو کہ انہیں تم پر مسلط نہ کرے.

علی (ع) نے فرمایا: علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں اٹھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ! اس مہینے سب سے برتر و افضل عمل کون سا ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ای اباالحسن! سب سے افضل عمل اس ماہ کے دوران محرمات (افعال حرام) سے پرہیز کرنا ہے.

اس کے بعد رسول اللہ (ص) روئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ص)! رونے کا سبب کیا ہے؟ تو آپ (ص) نے فرمایا: یا علی (ع)! میں رو اس لئے رہا ہوں کہ اس مہینے آپ کو ایک ناگوار حادثہ پیش آئے گا؛ گویا میں آپ کے ساتھ ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنے پرودگار کے لئے نماز ادا کررہے ہیں اور اسی حال میں اولین و آخرین میں سب سے شقی ترین اور بدبخت ترین شخص  ـ جو ناقۂ صالح کو پے کرنے والے شخص کا بھائی اور ہم ردیف و ہم زمرہ شخص آپ کے سر کے اگلے حصے پر ضربت مارتا ہے اور آپ کی ڈاڑھی کو خون کے خضاب سے رنگ دیتا ہے.

میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا شہادت کے وقت میرا دین سلامت ہوگا؟

رسول اللہ ص نے فرمایا: ہاں! آپ کا دین سلامت ہوگا؛ یا علی (ع)! جو آپ کو قتل کرے اس نے مجھے قتل کیا ہے جو دل میں آپ کی عداوت رکھے اور آپ سے دشمنی کرے اس نے مجھ سے دشمنی کی ہے اور دل میں میرے لئے دشمنی پالی ہے. جو آپ کے خلاف سبّ اور دشنام طرازی کرے اس نے مجھے دشنام دی ہے کیونکہ آپ مجھ سے اور میرے وجود سے ہیں؛ آپ کی روح میری روح اور آپ کی سرشت اور طینت میری سرشت اور طینت ہے؛ یا علی (ع)! بتحقیق خداوند متعال نے مجھے اور آپ کو خلق فرمایا اور مجھے اور آپ کو پسند کیا اور لوگوں میں سے مجھے نبوت کے لئے چنا اور آپ کو امامت کے لئے. پس جو آپ کی امامت کا انکار کرے اس نے میری نبوت کا انکار کیا ہے.

یا على ! آپ میرے وصی و جانشین، میرے فرزندوں کے باپ، میری بیٹی کے خاوند اور امت کے اوپر میرے جانشین ہیں؛ آپ کا فرمان میرا فرمان اور آپ کی روک ٹوک اور نہی میری روک ٹوک اور نہی ہے. میں قسم کھاتا ہوں اس خدا کی جس نے مجھے نبوت پر مبعوث فرمایا اور بہترین خلائق قرار دیا بتحقیق آپ تمام مخلوقات پر خدا کی حجت، اس کے اسرار و رموز کے امین اور اس کے بندوں کے بیچ اس کے نمائندے ہیں.

+ تحریر شده  20 Aug 2009میں ٹایم 1 PM  قلم نگار سیفی  | 

امام زمانہ علیہ السلام کے موضوع کا ہمیشہ سے مکتب تشیع میں پرکشش اور مرکز توجہ ہونا اور یہ کہ اب زمانہ غیبت  میں آپ ہی ایک زندہ امام ہونے کے ناتے ہماری مشکلات میں ہمارے ملجاء اور مرجع ہیں نیز یہ کہ اس وقت کاینات میں آپ ہی الہی نعمات اور رحمتوں میں واسطہ فیض اور زمیں پر حجت طراح: محمد احمدی نژاد.خدا  ہیں ،یہ عظیم عقیدہ جہاں معرفت وعشق کے دلدادہ شیعوں کی تسکین قلب کا باعث ہے وہاں کچھ دنیا پرست اور شہرت و مقام کے حریص شیطان صفت لوگ شیعان جہان کے اس روحانی جذبے اور امام سےپاکیزہ معنوی بے پناہ محبت سے غلط فایدہ اٹھاتے ہیں اور معصوم لوگوں کو اپنے غلط مادی مفادات کےلیے جھوٹے خواب اور خیالی قصوں اور باطل دعووں کو امام سے منسوب کرکے سناتے ہیں اسطرح ان کی گمراہی اور معاشرے میں بدعات کا باعث بنتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ امام نے ہمیں یہ حکم دیا ۔۔ ۔ ۔ ۔ یا امام فلاں تاریخ کو ظہور کرنے والے ہیں  یہ باتیں انکے باطل ہونے کے لیے کافی ہیں چونکہ صحیح ترین احادیث کے مطابق آیمہ معصومین علیہم السلام نے فرمایا ہے کہ جو قایم کے ظہور کا وقت معیّن کرے وہ جھوٹا کذّاب ہے اسی طرح خود امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف نے فرمایا ہے کہ آسمانی آواز اور سفیانی کے خروج سے پہلے ہمارے مشاھدے(نیابت اور دیکھنے)کا دعوی کرے وہ جھوٹا ہے۔

اس سلسلے میں ضروری ہے کہ ہم اپنے وقت کے امام کے بارے صحیح شناخت و معرفت پیدا کریں انکے بارے علماء کی کتابوں کا مطالعہ کریں اگر کویی شبہ یا سوال ہو تو کسی بڑے عالم دین کی طرف رجوع کریں چونکہ اماموں کے علوم کے وارث یہ ہیں جیسا کہ امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف نے بھی اپنی غیبت میں علماء اور فقہاء کو حجت قرار دیا ہے.
+ تحریر شده  15 Aug 2009میں ٹایم 12 PM  قلم نگار سیفی  | 

توسعه فرهنگ مهدویت نیازمند تلاش بیشتر پژوهشگران است

چشم وچراغ دیدہٴ نرجس

 عین خداکی آنکھ کاتارا

بدرکمال نےمہٴ شعبان 

چودھواں اختراوج بقاکا

حامی ملت ماحیٴ بدعت

کفرمٹانے خلق میں آیا

وقت ولادت ماشاء اللہ

قرآن صورت دیکھ کے بولا

جاء الحق وزھق الباطل

ان الباطل کان زھوقا

+ تحریر شده  8 Aug 2009میں ٹایم 12 PM  قلم نگار سیفی  | 
 

امام زادے حضرت عبدالعظیم حسنی رحمۃ اللہ علیہ جلیل القدر عالم ، محدث ، محب اھل بیت اور حقیق معنوں محمد و آل محمد کے مطیع تھے ان کی عظمت کے لئے معصوم کا یہ فرمان کافی ہے کہ جس نے حضرت عبدالعظیم حسنی کی ری (تہران کے مضافات میں ایک قصبہ) میں زیارت کی اسے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا ثواب نصیب ہوگا۔http://www.golabi70.blogfa.com/

جناب عبدالعظیم حسنی امام تقی علیہ السلام سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ آپ اپنے پاکیزہ آباو واجداد کے سلسلہ سے امیرالمومنین سے نقل کرتے ہیں: للقائم منا غیبۃ امدھا طویل، کانی بالشعیۃ یجولون جولان النعم فی غیبۃ یطلبون المرعی فلا یجدون الا فمن ثبت منھم علی دینہ لم یقس قلبہ لطول امد غیبۃ امامہ فھو معی فی درجتی یوم القیامۃ،

 یعنی امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہمارے قائم کی غیبت طولانی ہوگی گویا کہ میں شیعوں کو دیکھ رہا ہوں اس کی غیبت کے دوران یوں ادھر ادھر پھریں گے جس طرح چوپائے چراگاہ کی تلاش میں ادھر ادھر پھرتے ہیں اور اسے نہیں پاتے ،جان لو کہ شیعوں میں سے وہ کہ جو دین پر ثابت قدم رہے اور غیبت کے طولانی ہونے کی وجہ سے اس کا دل سخت نہ ہو وہ روز قیامت میرے مرتبہ میں میرے ساتھ ہوگا۔ (بحارالانوار،ج۵۱،ص۱۰۹،ح۱۱۰)

+ تحریر شده  1 Aug 2009میں ٹایم 7 PM  قلم نگار سیفی  | 

معتبر شیعہ اور سنی منابع و مآخذ کے مطابق، امیرالمؤمنین علی بن ابی‏طالب (ع) نے 13 رجب المرجب 30 سال بعد از عام الفیل، شہر مکہ اور کعبہ مقدسہ میں ولادت پائی. عرب مورخین نے لکھا ہے کہ جب امیرالمؤمنین (ع) کی والدہ ماجدہ «حضرت فاطمہ بنت اسد (س)» کو محسوس ہوا کہ آپ کے فرزند کی پیدائش کی گھڑی آن پہنچی ہے تو خانہ کعبہ کے پاس پہنچیں اور بارگاہ الہی میں مناجات و راز و نیاز میں مصروف ہوئیں اور عرض کیا: «پروردگارا! میں تجھ پر اور تیرے بھیجے ہوئے تمام انبیاء اور کتب پر ایمان رکھتی ہوں اور اس گھر کی تعمیر کے متولی، اپنے جد امجد ابراھیم (ع) کے کلام کی تصدیق کرتی ہوں. بار پروردگارا! اسی ذات کے صدقے جس نے یہ گھر تعمیر کیا اور اس نومولود کے صدقے جو اس وقت میرے پاس امانت ہے، اس کی ولادت کو میرے لئے آسان فرما». بی بی کی دعا ختم ہی ہوئی تھی کہ اچانک دیوار کعبہ مین شکاف پڑ گیا اور فاطمہ بنت اسد اسی شکاف کے راستے خانۂ کعبہ میں داخل ہوئیں اور حاضرین و زائرین کی آنکھوں سے اوجھل ہو ئیں جبکہ دیوار کعبہ پہلے کی طرح بہم پیوست ہوئی. مسجد الحرام میں موجود لوگ خوفزدہ ہوگئے تھے اور انہوں نے در کعبہ کا تالا کھولنے کی لاکھ کوششیں کیں مگر دروازہ نہیںن کھلا اور بالآخر جان گئے کہ اس واقعے میں کوئی اہم راز ہے اور اس ماجرا کا تعلق مشیت الہی سے ہے. دیوار کا جو نقطہ امیرالمؤمنین (ع) کی والدہ کے لئے شکافتہ ہوا تھا اس کا نام "مستجار" ہے اور "ركن يمانی" کے ساتھ جُڑا ہوا ہے. اس وقت سے اب تک 1440 برس گذر چکے ہیں اور اس طویل مدت میں خانۂ کعبہ کی بارہا بار تعمیر نو ہوئی ہے؛ حتی کی اس کے پتھر تک تبدیل کئے گئے ہیں مگر ہر بار تعمیر یا تعمیر نو اور پتھروں کی تبدیلی کے بعد بھی خانۂ کعبہ اپنی مسکراہٹ نہیں بھولتا اور دیوار میں پھر بھی وہی شکاف ظاہر ہوجاتا ہے.

+ تحریر شده  12 Jul 2009میں ٹایم 11 AM  قلم نگار سیفی  |